حکومت سے سمجھوتے کے بعد آئی پی پیز کے مابین اختلافات


اسلام آباد: حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے مابین سنگین اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق باہمی بداعتمادی کے سبب آئی پی پیز کے 2 بڑے گروہوں اور آئی پی پیز کی ایڈوائزری کمیٹی کے سربراہ خالد منصور میں اختلافات سامنے آگئے، خالد منصور نے بجلی بنانے والے اداروں کی جانب سے مذاکرات کی سربراہی کی تھی اور اب مستعفی ہوگئے ہیں۔

آئی پی پی اے سی کو 28 جولائی کو ارسال کردہ استعفیٰ میں انہوں نے لکھا کہ ‘مجھے بتایا گیا کہ 4 کمپنیوں (نشاط پاور لمیٹڈ، نشاط چونیاں پاور، لبرٹی پاور اور اٹک جین لمیٹڈ) نے آئی پی پی سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کو خط لکھ کر بجلی کے شعبے کے معاملات حل کرنے کے لیے بنائی گئی کمییٹی میں میری نامزدگی پر اعتراض اٹھایا ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘حالانکہ میں نے وہ خط نہیں دیکھا لیکن مجھے اس مواد سے مطلع کیا گیا ہے جس کے مطابق آئی پی پیز کو اس بات کا یقین نہیں ہے کہ میں ان کے مفادات کا تحفظ یا ان کی نمائندگی کروں گا’۔

خیال رہے کہ آئی پی پی اے سی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان آئی پی پی اسپانسرز کو دیے جانے والے ریٹرنز کی کمی کے علاوہ ان ریٹرنز کے لیے ڈالر کی اشاریہ سازی کے خاتمے سمجھوتے کی یادداشت طے پائی تھی۔

اس سمجھوتے کو حکومت نے اس وقت اپنے اہم کارناموں میں سے ایک قرار دیا تھا۔

خالد منصورے نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ ‘اگر اب اراکین سمجھتے ہیں کہ اس پورے عمل کے دوران میں نے ان کے مفادات کے لیے کام نہیں کیا تو میں اپنے استعفیٰ پیش کرتا ہوں، ذاتی اور پیشہ ورانہ دیانت داری سرزنش سے بالاتر ہے۔

تاہم خالد منصور کے خط میں نامزد کمپنیوں کے گروہ سے سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر ذریعہ نے مختلف نقطہ نظر پیش کیا۔

انہوں نے خالد منصور اور ان کے مذاکرات کی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ ‘وہ اپنا راستہ سیدھا کررہے تھے، انہوں نے ایک سبسیڈری بنائی اور اپنی کمپنی کا تمام منافع وہاں منتقل کردیا جبکہ دیگر کمپنیاں یہ نہیں کررہی تھیں اس لیے کچھ اداروں کا منافع دوسرا سے زیادہ ظاہر ہوا تھا’۔

ذرائع نے کہا کہ منافع کو چھپانے کے اس عمل کا خالص نتیجے میں کچھ آئی پی پیز کوّ ‘حد سے زیادہ’ منافع دیکھا گیا جو 14 سے 17 ارب روپے تھا جبکہ دیگر کا منافع صفر تھا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر انہیں اضافی منافع حاصل ہوا یا نہیں اس کی تحقیقات کے لیے اکاؤنٹس نیپرا کے حوالے کرنے پر تحفظات تھے تو ان کی کمپنی نے سمجھوتے کی یادداشت پر دستخط کیوں کیے تو انہوں نے جواب دیا گیا کہ ‘ ہم اس وقت سخت دباؤ میں تھے’۔


اپنا تبصرہ لکھیں