آج عالمی یوم آگاہی برائے آٹزم منایا جا رہا ہے، جو آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (اے ایس ڈی) کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے ایک عالمی تقریب ہے، یہ ایک عمر بھر کی حالت ہے جو بچے کی بات چیت کرنے، سیکھنے اور سماجی طور پر تعامل کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ جیسے جیسے آگاہی پھیل رہی ہے، ماہرین نے پاکستان میں آٹزم کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اعداد و شمار میں کیسز میں تشویشناک اضافہ دکھایا گیا ہے۔ پاکستان میں آٹزم میں اضافہ طبی پیشہ ور افراد کے مطابق، پاکستان میں آٹزم کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ آٹزم کی ماہر ڈاکٹر فاطمہ سرور نے بتایا کہ اب ہر 36 بچوں میں سے ایک بچہ آٹزم سے متاثر ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 56 میں سے ایک تھی، اور پچھلے سالوں میں 80 میں سے ایک تھی۔ یہ حالت لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کو زیادہ شرح سے متاثر کرتی ہے اور اس میں اضافہ جاری ہے، ماہرین والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں سے ابتدائی مداخلت کی درخواست کر رہے ہیں۔ آٹزم کی علامات آٹزم ہر فرد میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتا ہے، جس کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ آٹزم کی ماہر ڈاکٹر تحریم بنگش نے وضاحت کی کہ آٹزم کی علامات اکثر جلد پتہ لگائی جا سکتی ہیں، اور موثر مداخلت کے لیے ابتدائی تشخیص بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر بنگش نے کہا، “اگر کوئی بچہ اپنا نام پکارنے پر جواب نہیں دیتا یا تاخیر سے بولنے کی علامات ظاہر کرتا ہے—جیسے کہ ایک سال کی عمر تک دو الفاظ نہ بولنا یا ڈیڑھ سال کی عمر تک 25 الفاظ نہ جاننا—تو ڈاکٹر یا اسپیچ تھراپسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔” آٹزم میں مبتلا بچے سماجی تعامل میں بھی جدوجہد کر سکتے ہیں، تنہا رہنا پسند کرتے ہیں اور ہم عمروں کے ساتھ دوستی یا تعامل سے گریز کرتے ہیں۔ اگر اس حالت کا علاج نہ کیا جائے تو یہ تنہائی برقرار رہ سکتی ہے، جو بچے کی عام زندگی گزارنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ آٹزم جان لیوا نہیں لیکن عمر بھر کا ہے اگرچہ آٹزم جان لیوا نہیں ہے، لیکن یہ ایک عمر بھر کی حالت ہے۔ یہ عارضہ کسی فرد کی بولنے، سیکھنے اور اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ آٹزم جان لیوا نہیں ہے، لیکن اے ایس ڈی میں مبتلا افراد اپنے ہم عمروں کی طرح سماجی اور مواصلاتی افعال کی سطح حاصل نہیں کر پاتے۔ آگاہی اور ابتدائی تشخیص کی اپیل آٹزم کے بڑھتے ہوئے کیسز پاکستان میں اس حالت کی مزید مضبوط سمجھ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ماہرین ابتدائی تشخیص اور مداخلت کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، جو آٹزم سے متاثرہ افراد کے معیار زندگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔ چونکہ عالمی یوم آگاہی برائے آٹزم ان مسائل پر روشنی ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے، ڈاکٹر اور ماہرین آٹزم سے نمٹنے والے خاندانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ آگاہی اور مدد کی وکالت کرتے رہتے ہیں۔