اوکلاہوما کی سزائے موت کے قیدی، رچرڈ گلوسپ، نے تقریباً 30 سال تک اپنی بے گناہی کا دعویٰ برقرار رکھا۔ اب، امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد، انہیں دوبارہ مقدمے کا موقع ملا ہے، کیونکہ عدالت نے پایا کہ استغاثہ نے ایک جھوٹی گواہی کو درست نہیں کیا جو جیوری کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی تھی۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا اوکلاہوما کے استغاثہ اس مقدمے کو دوبارہ چلانا چاہتے ہیں؟
1998 میں گلوسپ کو اوکلاہوما سٹی موٹل کے مالک بیری وین ٹریز کے قتل کے منصوبے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دے کر سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے بعد سے، ان کے مقدمے میں کئی نقائص سامنے آئے ہیں، اور اس وقت ان کی حمایت میں سیاسی ماحول بھی بدل رہا ہے۔
- اہم نکتہ:
- سپریم کورٹ نے رچرڈ گلوسپ کے لیے نئے مقدمے کا حکم دیا۔
گلوسپ کے وکلاء کے علاوہ، سزائے موت کے حامی ریپبلکنز، خاص طور پر اوکلاہوما کے اٹارنی جنرل جینٹنر ڈرمنڈ، نے ان کی رہائی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اوکلاہوما کے لوگوں کا سزائے موت کے نظام پر اعتماد برقرار رہنا ضروری ہے، اور گلوسپ کی پھانسی سے ریاست کے عدالتی نظام پر سوالات اٹھیں گے۔
ڈرمنڈ نے کہا، “میں اب بھی گلوسپ کو بے گناہ نہیں سمجھتا، لیکن یہ واضح ہے کہ انہیں منصفانہ مقدمہ نہیں ملا۔”
ڈرمنڈ اور اوکلاہوما کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی وکی بہینا کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ کیا گلوسپ پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائے۔ ڈرمنڈ کے مطابق، یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا، اور ان کا انتخاب 30 سال قبل وین ٹریز کے قتل کے ثبوتوں اور گواہوں پر منحصر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ “ہم ثبوتوں کا جائزہ لیں گے اور دستیاب گواہوں سے بات کریں گے تاکہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ کیا ہمیں دوبارہ سزائے موت، عمر قید، یا کم سنگین جرم کا مطالبہ کرنا چاہیے۔”
پرانے مقدمات پر دوبارہ مقدمہ چلانا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ گواہوں کی یادداشتیں کمزور ہو جاتی ہیں اور ثبوت ضائع ہو جاتے ہیں۔
تاہم، گلوسپ کے دوبارہ مقدمے میں، استغاثہ کو ایک اور مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا: سپریم کورٹ کے فیصلے اور دیگر انکشافات نے ان کے اہم گواہ، جسٹن سنیڈ کی ساکھ کو کمزور کر دیا ہے، جو وین ٹریز کا اصل قاتل تھا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ سنیڈ کی گواہی پر مبنی تھا، جو گلوسپ کو قتل سے جوڑنے والا واحد ثبوت تھا۔ عدالت نے پایا کہ استغاثہ نے سنیڈ کی جھوٹی گواہی کو درست نہیں کیا، جس سے اس کی ساکھ کمزور ہو جاتی۔
ڈرمنڈ نے کہا کہ وہ تمام امکانات پر غور کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ سزائے موت کا مطالبہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا، “مجھے نہیں لگتا کہ آج کے دور میں کوئی بھی استغاثہ سزائے موت کا مطالبہ کرے گا۔” انہوں نے گلوسپ کو بے گناہ ماننے سے انکار کیا، لیکن کہا کہ گلوسپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ قتل کے بعد مدد کرنے کا مجرم ہے۔
گلوسپ کی حامیوں کو امید ہے کہ ڈرمنڈ اور بہینا دوبارہ مقدمہ چلانے سے گریز کریں گے۔