Pakistan coach says 'will do what's best for team' after embarrassing Champions Trophy exit

Pakistan coach says ‘will do what’s best for team’ after embarrassing Champions Trophy exit


راولپنڈی: پاکستان کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے بدھ کے روز کہا کہ ٹیم مینجمنٹ قومی ٹیم کے بہترین مفاد میں اقدامات کرے گی، کیونکہ وہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 سے مایوس کن انداز میں باہر ہو گئی ہے۔

محمد رضوان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم، جو خود اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کر رہی ہے، گروپ اسٹیج میں نیوزی لینڈ اور بھارت کے ہاتھوں مسلسل شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہو گئی۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، عاقب جاوید نے اس تاثر کو رد کیا کہ کھلاڑی بغیر میرٹ کے منتخب کیے گئے، اور واضح کیا:
“اسکواڈ میں شامل کوئی بھی کھلاڑی بغیر کارکردگی کے نہیں آیا۔”

انہوں نے مزید کہا:
“ہم صرف اس لیے پوری ٹیم کو انڈر 19 اسکواڈ سے تبدیل نہیں کر سکتے کہ ہم ہار گئے۔”

انہوں نے تسلیم کیا کہ کھلاڑی اپنی کارکردگی سے دل شکستہ ہیں۔
“جب وہ توقعات پر پورا نہیں اترتے، تو سب سے زیادہ مایوسی خود کھلاڑیوں کو ہوتی ہے۔”

بھارت کے خلاف شکست کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جاوید نے کہا:
“بھارتی ٹیم کافی تجربہ کار تھی۔ جب آپ 240 رنز کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں، تو وکٹیں لینا اور اٹیکنگ حکمت عملی اپنانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔”

ٹیم سلیکشن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا:
“آپ کبھی بھی مکمل مطمئن نہیں ہو سکتے، لیکن ہمارے پاس جو بہترین ممکنہ ٹیم تھی، ہم نے وہی منتخب کی۔ انتخاب کے پیچھے سوچ یہی تھی کہ مضبوط ترین اسکواڈ بنایا جائے۔”

انہوں نے ٹیم کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی، لیکن بہتری لانے کا عمل جاری رہے گا۔

“سلیکشن کمیٹی کا کام بہترین کھلاڑیوں کو چننا ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے، ہم قومی ٹیم کے مفاد میں فیصلے کریں گے اور اگلے میچز پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے،” جاوید نے کہا۔

پاکستان کی ناقص کارکردگی پر کرکٹ حلقوں اور مداحوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، خاص طور پر کیونکہ وہ اس ٹورنامنٹ میں دفاعی چیمپئن تھے۔ قومی ٹیم نے کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا میچ 60 رنز سے ہارا، جبکہ بھارت کے خلاف چھ وکٹوں سے شکست نے ان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات تقریباً ختم کر دیے۔

پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے بنگلہ دیش کی جیت کی ضرورت تھی، لیکن ایسا نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے جمعرات کو راولپنڈی میں بنگلہ دیش کے خلاف میچ محض رسمی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

ماہرین نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں مسابقتی ماحول کی کمی اور کم معیار کی پچز کو بین الاقوامی سطح پر کھلاڑیوں کی کمزور کارکردگی کی بڑی وجوہات قرار دیا ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، کوچنگ اسٹاف، اور سلیکشن کمیٹی میں بار بار کی جانے والی تبدیلیاں بھی ٹیم کی ناکامی کی ایک اہم وجہ ہیں۔

پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی بھی سخت تنقید کی زد میں آ گئے ہیں، اور ان کی برطرفی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں، کیونکہ ٹیم مسلسل ناکامیوں سے دوچار ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ پاکستان کسی بڑے ٹورنامنٹ میں بری طرح ناکام ہوا ہو۔ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں بھی قومی ٹیم نے 9 میں سے صرف 4 میچز جیتے اور 8 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں پانچویں نمبر پر رہی۔

اسی طرح، ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 میں بھی پاکستان گروپ اسٹیج میں ہی باہر ہو گیا تھا، جہاں انہیں بھارت اور امریکہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔


اپنا تبصرہ لکھیں