لاہور:
اس سال سمپوزیم کا مرکزی موضوع (تھیم) ’سائنس و ٹٰیکنالوجی میں ایجادات اور علمی معیشت‘ کو فروغ دینے پر ہے۔
افتتاحی تقریب سے مرکز کے بانی ڈاکٹر احتشام الرحمان ، کیمپس کے ڈائریکٹر قیصرعباس، برطانیہ کی پروفیسر شیلہ میکلین، اور کامسیٹس کے ریکٹر ڈاکٹر راحیل قمر نے بھی خطاب کیا۔
سینٹر کے ناظم ڈاکٹر عاقف انور نے سمپوزیم اور سینٹر کےبارے میں تفیصلات فراہم کرتے ہوئے تمام مندوبین کو خوش آمدید کہا۔
اس سے قبل اںٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر برائے بائیو میڈیکل مٹیریلز کے ایڈوائزر ڈاکٹر سعادت انور صدیقی نے وزیرِ صحت کو مرکز میں تیار ہونے والے بایومٹیریلز پر تحقیق اور ان کی تیاری سے بھی آگاہ کیا ۔ اس موقع پر وزیرِ صحت نے اپنے خطاب میں یقین دہانی کرائی کہ سمپوزیم میں جو بھی سفارشات پیش کی گئی ہیں ان پر وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت سنجیدگی سے غور کرے گی اور ایسے اداروں کو مضبوط بنایا جائے گا۔
طب میں جدید بایو مٹیریلز کے حوالے سے یہ بین الاقوامی سمپوزیم دو دن تک جاری رہے گا۔
جدید سہولیات سے مرصع آئی آر سی بی ایم میں ہڈیوں کی نشوونما، جلد کے حیاتیاتی متبادل، نرم بافتوں (سافٹ ٹشوز) سمیت بایو سینسر اور دیگر برقی پیوند پر تحقیق ہورہی ہے۔ حال ہی میں اس مرکز کے ماہرین نے زیابیطس کے مندمل نہ ہونے والے زخموں کے لیے حیاتیاتی پٹی تیار کی ہے جس کے بہت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔
واضح رہے کہ آئی آر سی بی ایم پاکستان میں ٹشو انجینیئرنگ اور بایومیڈیکل تحقیق سے وابستہ واحد کثیرالموضوعاتی تحقیقی ادارہ ہے جو 2008 میں قائم کیا گیا تھا۔ اپنے تحقیقی کام کی بدولت اب تک ادارے نے 400 سےزائد تحقیقی مقالے شائع کرائے ہیں ۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیرملکی درجنوں گرانٹس اور پیٹنٹس حاصل کی ہیں۔