چند دن قبل اپوزیشن سے ہاتھ ملانے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ملک احمد حسین ڈیہر نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد میں وزیراعظم عمران خان کا ساتھ دیں گے۔
جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جب صحافیوں نے ملک احمد حسین ڈیہر سے سوال کیا کہ وہ عدم اعتماد کے ووٹ پر کہاں کھڑے ہیں تو انہون نے جواب دیا کہ خدا کے فضل سے میں حکومت کے ساتھ ہوں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے تحفظات کو دور کیا گیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ وہ دور کیے جا رہے ہیں، بات چیت ہو رہی ہے۔
ملک احمد حسین ڈیہر نے اعتراف کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران سے ملاقات کی ہے اور کہا کہ میرے کچھ مسائل ہیں جو وہ وزیراعظم عمران حل کریں گے، وہ مسائل حل کیے جا رہے ہیں اور اس کے بعد میں ان کی حمایت کروں گا۔
ایک اور سوال کے جواب میں رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ اب بھی حکمران جماعت کا حصہ ہیں۔
ملک احمد حسین ڈیہر پی ٹی آئی کے ان منحرف اراکین قومی اسمبلی میں سے ایک ہیں جو مبینہ طور پر اس ماہ کے اوائل میں اسلام آباد میں سندھ ہاؤس میں موجود تھے۔
یہ انکشاف وزیر اعظم عمران اور کابینہ کے کچھ وزرا کی جانب سے اپوزیشن پر عدم اعتماد کی قرارداد پر اہم ووٹ سے قبل ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں سندھ ہاؤس ارکان کی خرید و فروخت کا مرکز بن گیا ہے۔
لیکن جہاں ایک طرف ان اراکین پر پیسے کے عوض ضمیر بیچنے کے الزامات عائد کرتے رہے، وہیں سندھ ہاؤس اپنی ٹیمیں بھیجنے جانے والے متعدد ٹی وی چینلز نے تقریباً ایک درجن پی ٹی آئی اراکین سے بات کر کے اس دعوے کی تصدیق کی جہان اراکین نے کہا کہ انہیں حکمران جماعت سے شکایات ہیں اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے۔
چند روز بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد حسین ڈیہر نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ وزیر اعظم عمران خود لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے منحرف ایم پی اے سے ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مل رہے ہیں اور سوال کیا تھا کہ ایسی صورتحال میں پی ٹی آئی اپنے کسی رکن قومی اسمبلی یا رکن صوبائی اسمبلی کو اپوزیشن سے ہاتھ ملانے پر کیسے کرپٹ کہہ سکتی ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم کے خلاف ووٹ دینے کے لیے کتنے پیسوں کی پیشکش کی گئی، تو رکن قومی اسمبلی نے جواب دیا تھا کہ انہوں نے الٹا سوال کیا کہ وزیر اعظم نے مسلم لیگ(ن) کے اراکین قومی اسمبلی سے ملاقات کی ہے، ان کو کتنے پیسوں کی پیشکش کی ہے۔
ملک احمد حسین ڈیہر نے وزیراعلیٰ بزدار پر کرپشن کے الزامات بھی لگائے تھے اور کہا تھا کہ انہوں نے خود وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں اپنے کام کے لیے رشوت دی تھی اور وہ وزیر اعظم کے سامنے رشوت کا کیس ثابت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعظم کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے بھی کہا تھا کہ اگر میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں کرپشن ثابت کر دیتا ہوں تو وزیر اعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، اگر میں کرپشن ثابت نہ کر سکا تو استعفیٰ دوں گا اور سیاست بھی چھوڑ دوں گا۔
اس کے بعد پی ٹی آئی نے ملک احمد حسین ڈیہر سمیت 13 اراکین قومی اسمبلی کو مبینہ انحراف پر شوکاز نوٹس جاری کیے تھے اور ان سے 26 مارچ تک وضاحت طلب کی تھی کہ انہیں منحرف قرار دے کر قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر نااہل کیوں نہ کیا جائے۔
بعدازاں حکومت نے اپنا سخت موقف تبدیل کیا تھا اور وزیر داخلہ شیخ رشید نے ناراض اراکین قومی اسمبلی سے پارٹی میں واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان سے کوئی سوال جواب نہیں کیے جائیں گے۔
حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک صدارتی ریفرنس بھی دائر کیا ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ کی رائے طلب کی گئی ہے کہ کیا منحرف اراکین قومی اسمبلی کے ووٹوں کو شمار کیا جا سکتا ہے اور کیا آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت انحراف کی بنیاد پر نااہلی مستقل ہو گی۔