مدت ملازمت کیس: جرنیل توسیع لیتے رہے، کسی نے نہیں پوچھا، اب طے کرلیتے ہیں، چیف جسٹس


اسلام آباد: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انتہائی اہم ریمارکس دیے کہ بہت سارے قواعد خاموش ہیں اور کچھ روایتیں بن گئی ہیں، ماضی میں 6 سے 7 جنرل توسیع لیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرلیتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے، جب کہ اٹارنی جنرل پاکستان اور آرمی چیف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم دلائل دے رہے ہیں تاہم سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کی گئی جو دوپہر ایک بجے دوبارہ شروع ہوئی۔

سماعت کے  آغاز سے پہلے بیرسٹر فروغ نسیم نے کمرہ عدالت میں وکالت نامہ جمع کروایا۔

میڈیا کو سمجھ نہیں آئی، ہم نے ازخود نوٹس نہیں لیا: چیف جسٹس

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس  آصف سعید کھوسہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ کل ہم نے جو نکات اٹھائے آپ نے انہیں تسلیم کیا، اسی لیے آپ نے انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ میڈیا کو سمجھ نہیں آئی، اس معاملے پر ہم نے ازخود نوٹس نہیں لیا، ہم کیس ریاض راہی کی درخواست پر ہی سن رہے ہیں۔

کل ہم نے جو نکات اٹھائے آپ نے انہیں تسلیم کیا، چیف  جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کابینہ نے کل کیا منظوری دی ہے ہمیں دکھائیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل بھی میں نے بتایا کہ توسیع کے نوٹی فکیشن پر متعدد وزراء کے جواب کا انتظار تھا، چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ اگر جواب نہ آئے تو کیا اسے ہاں سمجھا جاتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں قواعد کے مطابق ایسا ہی ہے۔

اٹارنی جنرل کے جواب پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ایسا صرف اس صورت میں سمجھا جاتا ہے جب مقررہ مدت میں جواب دینا ہو، آپ نے مدت مقرر نہیں کی تھی لہٰذا آپ کے سوال کا جواب آج بھی ہاں تصورنہیں کیاجاسکتا۔

کابینہ نے ہماری غلطیوں کی نشاندہی کو مان لیا: چیف جسٹس پاکستان

اٹارنی جنرل نے کابینہ کے گزشتہ روز کے فیصلوں کے بارے میں دستاویز عدالت میں جمع کرائیں۔

اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کل رولز میں تبدیلی کے وقت کابینہ کو رولز پربحث کےلیے وقت دیا گیا، اس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ کابینہ ارکان کو وقت دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر اوپن مینڈیٹ تھا تو چھوڑ دیتے ہیں، کابینہ نے ہماری غلطیوں کی نشاندہی کو مان لیا اور یہ بات طے ہے کہ کل جن خامیوں کی نشاندہی کی تھی ان کو تسلیم کیا گیا، خامیاں تسلیم کرنے کے بعد ان کی تصیح کی گئی۔

اٹارنی جنرل کا خامیاں تسلیم کرنے سے انکار

چیف جسٹس کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں تو تصحیح کیوں کی گئی؟

اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ میں اس کی وضاحت کرتا ہوں ،توسیع سےمتعلق قانون نہ ہونےکا تاثر غلط ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے کہ صرف 11 ارکان نے ہاں میں جواب دیا تھا۔

معزز چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کے مؤقف پر ریمارکس دیے کہ اگرباقیوں نے ہاں میں جواب دیا تھا تو کتنے وقت میں دیا تھا یہ بتا دیں، کل جو آپ نے دستاویز دی تھی اس میں 11 ارکان نے یس لکھا ہوا تھا، نئی دستاویز آپ کے پاس آئی ہے تو دکھائیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اب تو حکومت اس کارروائی سے آگے جاچکی ہے،  اس پر اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ کابینہ سے متعلق نکتہ اہم ہے اس لیے اس پر بات کروں گا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مکالمہ کیا کہ اگر کابینہ سرکولیشن میں وقت مقرر نہیں تھا تو اس نکتے کو چھوڑ دیں، جو عدالت نے کل غلطیاں نکالی تھیں انہیں تسلیم کرکے ٹھیک کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے ایک بار پھر مؤقف اپنایا کہ حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ ان سے غلطی ہوئی، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کابینہ کے ارکان کے مقررہ وقت تک جواب نہیں دیا گیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے کابینہ کی نئی منظوری عدالت میں پیش کردی

اٹارنی جنرل نے کہا کہ رول 19 کے مطابق جواب نہ آنے کا مطلب ہاں ہے،  اس پر چیف جسٹس پاکستان نے  ریمارکس دیے کہ رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے، اگر حالات پہلے جیسے ہیں تو قانون کے مطابق فیصلہ کردیتے ہیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کابینہ کی نئی منظوری عدالت میں پیش کردی۔

سمری پیش کرنے کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ازسرنو اور توسیع سے متعلق قانون دکھائیں جن پرعمل کیا، تسلی سے سب کو سنیں گے، کوئی جلدی نہیں، پہلے یہ سوال اٹھایا نہیں گیا، اب اٹھا ہے تو اس کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیں گے، ماضی میں پانچ 6 جرنیل خود کو دس دس سال ایکسٹینشن دیتے رہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آرمی چیف ملٹری کو کمانڈ کرتا ہے، تعیناتی صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرتا ہے۔

کیا مدت ملازمت 3 سال کیلیے ہے، اس کے بعد کیا ہوگا؟ عدالت کا سوال

اٹارنی جنرل کے مؤقف پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیےکہ آرٹیکل 243 میں تعیناتی کی مدت کی بات کی گئی ہے، آرمی چیف کتنے عرصے کے لیے تعینات ہوتے ہیں؟ کیا آرمی چیف حاضر سروس افسر بن سکتا ہے یا ریٹائرڈ جنرل بھی، قواعد کو دیکھنا ضروری ہے، 243 تو مراعات اور دیگر معاملات سے متعلق ہے۔

عدالت کے سوالات پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ میرے پاس ترمیمی مسودہ ابھی آیا ہے، اس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیال نے کہا کہ ہمارے پاس وہ بھی نہیں آیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آئین و قانون کی کس شق کے تحت قواعد تبدیل کیے گئے، آرٹیکل 255 ان لوگوں کے لیے ہے جو سروس سے نکالے جاچکے یا ریٹائر ہوگئے، اس آرٹیکل کے تحت ان کو واپس بلایا جاتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا مدت ملازمت 3 سال کے لیے ہے، 3 سال کے بعد کیا ہوگا، اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ 3 سال تو نوٹی فکیشن میں لکھا جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ کل کے نوٹی فکیشن میں 3 سال کی مدت کیسے لکھی گئی۔

جنرل چار 5 مرتبہ خود کو توسیع دیتے رہتے ہیں، یہ معاملہ اب واضح ہونا چاہیے:
چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس میں سب کی بات سنیں گے، یہ سوال آج تک کسی نے نہیں اٹھایا، اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے، جنرل چار 5 مرتبہ خود کو توسیع دیتے رہتے ہیں، یہ معاملہ اب واضح ہونا چاہیے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل 4 سال بعد ریٹائر ہوتا ہے اور آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر ہی نہیں ہے، اس پراٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ جی بالکل رول میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر نہیں۔

اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا آرمی چیف کی تقرری کا نوٹی فکیشن ریکارڈ پر موجود ہے،؟ جو نوٹی فکیشن آرمی چیف کا جاری ہوا تھا وہ بتائیں کیا کہتا ہے، اگرریٹائرمنٹ سے 2 دن قبل آرمی چیف کی توسیع ہو توکیا وہ جاری رکھے گا، 3 سال کی مدت ہوتی ہے تو وہ کہاں ہے؟ عدالت کے سوال پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹرم کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کا تعین کہیں نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سب کو خاموشی سے سنیں گے، بہت سارے قواعد خاموش ہیں، کچھ روایتیں بن گئی ہیں، ماضی میں 6 سے 7 جنرل توسیع لیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرلیتے ہیں۔

معزز چیف نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ  نارمل ریٹائرمنٹ سے متعلق آرمی کے قواعد پڑھیں،  آرمی ایکٹ کے رول 262 سی کو پڑھیں، جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال دی گئی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ قمرجاوید باجوہ کی تعیناتی کا پہلا نوٹی فکیشن کیا کہتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے اچھا نکتہ اٹھایا ہے، یہ معاملہ دوبارہ تعیناتی کا ہے، 1948 سے لے کر ابھی تک تقرریاں ایسے ہی ہوئیں ہیں۔

اٹارنی جنرل نے جنرل کیانی کو جسٹس کیانی کہہ دیا

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو جسٹس کہہ دیا اور کہاکہ جسٹس کیانی کی تقرری بھی ایسے ہی ہوئی تھی۔

چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل کی تصحیح کی اور کہا کہ جسٹس کیانی نہیں جنرل کیانی کی تقرری۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ رولز میں ریٹائرمنٹ اور ڈسچارج کا ذکر ہے، جب مدت مکمل ہوجائے تو پھر نارمل ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، 253 کے ایک چیپٹر میں واضح ہےکہ گھرکیسے جائیں گے یا فارغ کیس کریں گے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس کے دوران اٹارنی جنرل درمیان میں بول پڑے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ جلدی میں تو نہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ نہیں میں رات تک یہاں ہوں۔

اگر جنگ ہورہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے: چیف جسٹس  پاکستان

دورانِ سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ایک بندہ ریٹائرمنٹ کی عمرکو پہنچ چکا تو اس کی ریٹائرمنٹ کومعطل کیا جاسکتا ہے، اگر جنگ ہورہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ ریٹائرمنٹ کی حد کا کوئی تعین نہیں، اس پر جسٹس منصور نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوسکتی؟ مدت پوری ہونے پر محض غیر متعلقہ قاعدے پر توسیع ہوسکتی ہے، یہ تو بہت عجیب بات ہے۔

معزز چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ انگریز نے جو بنایا تھا وہ ایک اسکیم تھی، جو ترمیم کرکے آپ آگئے ہیں وہ آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں،  اس پر اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ وفاقی حکومتی افسران سے متعلق رولز بنائے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ابھی تک ہمیں یہ اسکیم ہی سمجھ نہیں آئی کہ کن رولز کے تحت توسیع ہوئی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ دیکھتے ہیں بحث کب تک چلتی ہے، ابھی تک تو ہم کیس سمجھ ہی رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک بجے تک ملتوی کردی جو ایک بجے کے بعد پھر شروع ہوئی۔

گزشتہ روز کی پیشرفت

اس سے قبل ازیں گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع یا دوبارہ تقرری کا نوٹی فکیشن معطل کردیا تھا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ پاکستان آرمی سے متعلق کسی قانون میں آرمی چیف کی دوبارہ تقرری یا توسیع کی شق موجود نہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ کابینہ سے نام نہاد منظوری لی گئی، کابینہ کے پچیس ارکان میں سے صرف 11 نے منظوری دی، اکثریت نے تو منظوری دی ہی نہیں۔ آرمی چیف کی توسیع کی ٹرم کیسے فکس کر سکتے ہیں؟ یہ اندازہ کیسے لگایا گیا کہ تین سال تک ہنگامی حالات رہیں گے؟

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع و تقرری کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزارت دفاع اور وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کیے جانے کے بعد وفاقی کابینہ کے معمول کے اجلاس کے بعد ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع و تقرری کی نئی سمری متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں ڈیفنس ایکٹ میں ترمیم منظور کی گئی، اس ترمیم کے تحت ڈیفنس ایکٹ میں لفظ ایکسٹینشن کااضافہ کیا گیا اور پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی نئی سمری تیار کی گئی جسے کابینہ ارکان کے سامنے پیش کیا گیا۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نئی سمری صدر مملکت کو بھجوادی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا پہلا نوٹیفکیشن واپس لے لیا، نوٹیفکیشن 19 اگست کو وزیراعظم کے دستخط سے جاری ہوا تھا۔

کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ وزیر قانون سینیٹر فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ، وہ کل سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی نمائندگی کریں گے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ چونکہ وزیر قانون کے طور پر فروغ نسیم عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے تھے اس لیے انہوں نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا، وزیراعظم کی منظوری سے وہ دوبارہ کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔

شیخ رشید نے بتایا کہ وزیراعظم نے فروغ نسیم کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے، وہ کل اٹارنی جنرل کے ہمراہ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔

شیخ رشید نے کہا کہ کابینہ کے کسی رکن نے فروغ نسیم پر تنقید نہیں کی۔

وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ غیر معمولی حالات کے پیشِ نظر وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ آرمی کمانڈ میں تسلسل ہونا چاہیے، غیر معمولی حالات یہ ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں 100 دن سے زائد مدت سے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے ، یہ بھی خدشہ ہے کہ پلوامہ جیسا کوئی جھوٹا حملہ کیا جائے ، بھارت نے دریاؤں کا پانی روکنے کی باتیں شروع کردی ہیں ، بھارت دھمکیاں دے رہا ہے۔

پاکستان ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم

شفقت محمود نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے پاکستان ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کر دی ہے، ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 255 میں لفظ ’ایکسٹینشن ان ٹینیور‘کا اضافہ کر دیا گیا ہے، حکومت نے عدالت کی مدد کرنے کے لیے رولز میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ حالات کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع وزیراعظم کا اختیار ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ کابینہ نے متفقہ طور پر آرمی چیف کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع وقت کا تقاضہ ہے۔


اپنا تبصرہ لکھیں