دی لیجنڈ آف مولا جٹ میں گانوں کی کمی کو محسوس کیا، شان شاہد

دی لیجنڈ آف مولا جٹ میں گانوں کی کمی کو محسوس کیا، شان شاہد


لالی ووڈ کے سُپر اسٹار شان شاہد نے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہیں بلاک بسٹر فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ میں کردار آفر ہوا تھا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے فلم میں موسیقی کی کمی سمیت دیگر کمزوریوں پر بھی روشنی ڈالی۔

سینئر اداکار شان شاہد نے حال ہی میں ایک یوٹیوب پوڈ کاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بلاک بسٹر فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میزبان کے مختلف سوالوں کے جوابات دیئے۔

فلم کے اداکاروں کے پنجابی لہجے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک اچھا اداکار ہمیشہ سیکھنے کے مراحل سے گزرتا رہتا ہے فلم میں تمام فنکاروں نے بہترین کام کیا لیکن انہیں اپنے پنجابی لب و لہجے پر تھوڑا اور کام کرنے کی ضرورت تھی اس کے علاوہ فلم میں موسیقی کی کمی کو محسوس کیا، میوزک کسی بھی فلم کی بنیادی ضرورت ہے، پرانی مولا جٹ کی موسیقی اس نئی فلم میں ڈالی جاسکتی تھی۔

انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ ہدایت کار بلال لاشاری نے انہیں بھی فلم مولا جٹ میں ایک کردار کی آفر کی تھی، میزبان کے اصرار پر انہوں نے بتایا کہ انہیں مولا جٹ کے والد سردار جٹ کا کردار آفر کیا گیا تھا مگر انہوں نے اس کردار کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ وہ اس کردار کے ساتھ انصاف نہیں کر پائیں گے۔

انہوں نے ایک اور سوال کہ وہ کون سا کردار تھا جس کے ساتھ انصاف کرسکتے تھے؟ کے جواب میں بتایا کہ اگر انہیں مولا جٹ کا کردار آفر ہوتا تو زیادہ بہتر انداز میں نبھا سکتا تھا۔ کیونکہ ماضی میں انہیں پنجابی کرداروں سے ہی عزت ملی ہے۔

انہوں نے فلم کے ولن حمزہ علی عباسی کی اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے کردار کے ساتھ بھرپور انصاف کیا ہے.

انہوں نے کہا کہ عام طور پر فلموں میں ہیرو ولین کو مارتا ہے لیکن دی لیجنڈ آف مولا جٹ میں حمزہ کا فلم ختم ہونے کے بعد چرچا ہو رہا تھا، وہ زندہ تھا۔

واضح رہے کہ فلم دی لیجنڈ آف مولاجٹ پاکستان کی پہلی فلم ہے جس نے قومی و بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے۔


اپنا تبصرہ لکھیں