بہاولپور کے نزدیک 4 دہشت گرد ’پولیس مقابلے‘ میں ہلاک


بہاولپور: محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے بہاولپور کے نزدیک ’پولیس مقابلے‘ میں 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کا کہنا تھا کہ مارے گئے دہشت گردوں کے 3 ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہے جن کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے جبکہ مرنے والوں کی شناخت امان اللہ، عبدالجبار، رحمٰن علی اور علیم کے نام سے ہوئی۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مارے گئے افراد داعش سے تعلق رکھتے تھے اور بہاولپور میں حساس مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی روشنی میں اعظم چوک کے نزدیک ایک جنگل کے قریب ان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا گیا تھا۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا مزید کہنا تھا کہ چھاپے کے دوران مذکورہ مقام سے 3 رائفلز، 11 دستی بم، ایک پستول اور گولہ بارود برآمد ہوا۔

پاکستان کا ماننا ہے کہ ملک میں داعش کی سرگرمیوں کو افغانستان میں موجود گروہ کنٹرول کرتا ہے اور گزشتہ ماہ اسلام آباد نے کابل سے افغان سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے داعش سے منسلک ایک گروہ کے مشتبہ سربراہ کو حوالے سے کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

افغان انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی نے 6 اپریل کو پاکستانی پس منظر رکھنے والے ’داعش خراسان‘ کے مشتبہ عسکریت پسند عبداللہ اورکزئی جسے اسلم فاروقی بھی کہا جاتا ہے کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب عسکری گروہ نے کابل میں ایک سکھ عبادت گاہ پر حملے کے نتیجے میں 25 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

جس پر وزارت خارجہ نے افغان سفیر کو طلب کر کے اسلم فاروقی سے متعلق خیالات پہنچائے تھے لیکن کابل نے پاکستان کی جانب سے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ مسترد کردیا تھا۔

افغان وزارت خارجہ نے 10 اپریل کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلم فاروقی افغانستان میں بہت لرزہ خیز حملوں میں ملوث ہے اور اس پر افغانستا کے قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ افغانستان دہشت گردوں میں امتیاز نہیں برتتا اور تمام کے خلاف مساوی قانونی کارروائی کرتا اس انسداد دہشت گردی کے خلاف عزائم پر کابند ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین مجرمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں۔


اپنا تبصرہ لکھیں