چیئرمین نیب ہر چیز پر نوٹس لیتے ہیں لیکن پیٹرول کے بحران پر خاموش ہیں، پشاور ہائیکورٹ


پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیے ہیں کہ قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین بھی ہر چیز پر نوٹس لیتے ہیں لیکن پیٹرول کے بحران پر خاموش ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں پیٹرول اور آٹا بحران کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے وفاقی وزیرپٹرولیم اور وفاقی سیکرٹری پٹرولیم کو کل طلب کرلیا۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبرپختونخوا کو بھی کل(11 جون کو ) طلب کرلیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی وزیرپٹرولیم سیکرٹری پٹرولیم اور ڈی جی نیب کے پی کل خود پیش ہوجائیں۔

سماعت کے دوران جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیے کہ پیٹرول کا بحران جاری ہے لوگوں کو پیٹرول نہیں مل رہا کسی کو کوئی پرواہ ہی نہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایسے وزرا پر افسوس ہوتا ہے جو صرف اجلاسوں کے لیے جاتے ہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں۔

اس پر عدالت میں موجود آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارتی (اوگرا) کے نمائندے نے کہا کہ ہم نے کمیٹی بنائی ہے جو پمپس پٹرول نہیں رے رہے ان کے خلاف کارروئی کریں گے

جس پر جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی کو چھوڑیں، کمیٹی کی بات مت کریں، جب کسی معاملے کو دباتے ہیں تو حکومت اس کے لیے کمیٹی بنا دیتی ہے۔

انہوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین بھی ہر چیز پر نوٹس لیتے ہیں لیکن پیٹرول اور آٹے کے بحران پر خاموش ہیں۔

جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیے کہ نیب صرف اپنی مرضی کے کیسز میں دلچسپی لیتا ہے، ادارے کو عوام کے مفاد کے لیے بھی کوئی کام کرنا چاہیے، لیکن اس معاملے پر نیب سورہا ہے۔

علاوہ جسٹس قیصر رشید نے سیکریٹری برائے خوراک سے آٹے کے بحران سے متعلق استفسار کیا جس پر انہوں نے بتایاکہ اس وقت آٹا مل رہا ہے، آٹے کی قلت نہیں لیکن اس کے نرخ زیادہ ہیں۔

سیکریٹری خوراک نے کہا کہ پنجاب سے آٹے اور گندم کی سپلائی ہورہی ہے کچھ ہفتوں میں نرخ معمول پر آجائیں گے۔

جس کے بعد عدالت نے سیکریٹری خوراک سے آٹے بحران پر تفصیلی رپورٹ آئندہ سماعت پر طلب کرلی۔

خیال رہے کہ 4 جون کو پشاور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس قیصر رشید نے پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی عدم دستیابی کا نوٹس لیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر پشاور عدالت کے حکم پر ہشاور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تو عدالت نے انہیں پیٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دی تھا۔

جسٹس قیصر رشید نے حکم دیا تھا کہ جن پمپس پر پیٹرول دستیاب ہے اور پھر بھی لوگوں کو نہیں مل رہا تو ان کو فی الفور سیل کیا جائے۔

اس موقع پر جسٹس قیصر رشید نے ڈپٹی کمشنر سے آٹے بحران پر استفسار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب بھی اس ملک کا حصہ ہے اور وہاں گندم کی پیداوار اچھی ہوئی ہے لہٰذا اس مسئلے کو حل کریں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ابھی گندم کٹائی سیزن گزرا ہے اور ایسے میں ریٹ کم ہونا چاہیے تھا لیکن مزید مہنگا کردیا، آٹا بحران پر وزیر اعلیٰ اور متعلقہ وزیر سے بات کر کے اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے۔

مزید پڑھیں: اوگرا نے پیٹرول کی فراہمی تعطل پر 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

واضح رہے کہ کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں عوام کو پیٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے اور حکومت کی جانب سے پیٹرول کی بروقت ترسیل کے باوجود عوام کو پیٹرول کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے پمپس کے خلاف کارروائی کے لیے انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا۔

علاوہ ازیںمسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت سے متعلق عوامی تحفظات اور شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا تھا۔


اپنا تبصرہ لکھیں