جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی) کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے اور جب چیزیں بہتر ہوں گی تو بات چیت آگے بڑھے گی۔
کراچی میں جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نور حق میں ملاقات کے بعد پی پی پی رہنما سعید غنی اور امتیاز شیخ سمیت دیگر کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں جہاں مسائل ہیں اس پر گفتگو ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعید غنی اور امتیاز شیخ نے کہا ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو دیکھیں گے اور جہاں یہ چیزوں کو بہتر بنا سکتےہیں وہ بنائیں گے، نتائج کے اعتبار اور پورے کنڈکٹ کے اعتبار سے جب یہ بہتر بنائیں گے اور الیکشن میں کوئی ایسی صورت سامنے آئے گی جس کے نتیجے میں ہمارے پاس کوئی متعین چیز ہوگی اور ہمیں لگے گا کہ حکومت کوئی اثر و رسوخ استعمال نہیں کر رہی تو پھر بعد میں گفتگو آگے بڑھاسکتے ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ اس وقت بھی کئی جگہوں پر دوبارہ گنتی جاری ہے، اصولاً ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دوبارہ گنتی کی وجہ سے کافی مسائل سامنے آرہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ الیکشن والے دن ہوا اس کے بارے میں تمام شکایات ہم الیکشن کمیشن کو بھیجی ہوئی ہیں، چند جگہوں پر ایسا بھی ہوا کہ مقامی ایس ایچ او پریزائیڈنگ افسر سمیت ڈبہ بھی اٹھا کر لے گئے تو یہ ساری چیزیں بھی ہم نے جمع کرائی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم فارم 11 اور فارم 12 کے اجرا پر تکلیف ہوئی اور اس کے لیے بڑی تگ و دو کرنا پڑی اور اس کے بعد نتائج کی تبدیلی پر مسئلہ ہوا، جس کے لیے ہم نے احتجاج کیا، دھرنے دیے، الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا اور پیپلزپارٹی سے بھی باربار بات کی کہ اس مسئلے کو حل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے چند یوسیز کے کیسز اٹھائے ہیں، جس پر 23 تاریخ کو سماعت ہوگی لیکن جن یوسیز میں دوبارہ گنتی کے مسائل چل رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں نتائج تبدیل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوبارہ گنتی ایک قانونی عمل ہے لیکن قانونی عمل میں غیرقانونی چیزیں ہوں اور زبردستی کچھ چیزیں شامل کردی جائیں تو پورا عمل جعلی بن جاتا ہے جو کہ عملاً اس وقت ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس پر جو تحفظات تھے، وہ پی پی پی اور حکومت سندھ کے وفد کو بتادیا ہے اور امید ہے سعید غنی اور ان کی پوری ٹیم اس کو دیکھے گی اور مسائل حل ہوں گے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ ہم انتظار کریں گے اور انتظار کے بعد چیزیں بہتر ہوں گی تو پھر بات چیت بھی ہوگی۔
اس موقع سعید غنی نے جماعت اسلامی کو بلدیاتی انتخابات میں کامیابی مبارک باد دی اور کہا کہ ہم نے ان سے گزارش کی تھی کہ ہم آپ کے پاس آکر آپ کی شکایات سننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوئے اس وقت سے کہہ رہے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں پی پی پی اور جماعت اسلامی مل کر اس شہر کے بلدیاتی اداروں میں ساتھ چلے، یہ شہر، شہر کے لوگوں اور بلدیاتی اداروں کے لیے اچھا موقع ہے کہ دو میچور پارٹیاں اس شہر کے حالات ٹھیک کرنے کے لیے مل کر چلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو تحفظات ہیں اور اس کا انہوں نے برملا اظہار کیا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ سے بھی انہوں نے کہا ہے لیکن جب انتخابات ہوتے ہیں تو ساری چیزیں الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوتا ہے اور الیکشن کے قوانین کے تحت کام کر رہا ہوتا ہے۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ حکومت کے براہ راست اختیار میں بہت ساری چیزیں نہیں ہوتی ہیں اس کے باوجود ہم نے جماعت اسلامی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جو اعتراضات ہیں اس میں کہیں حکومت سندھ کا کوئی کردار بنتا ہے تو ہم ضرور ادا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اپنی شکایات دور کرنے کے لیے قانونی راستے اختیار کیے ہیں یہ ان کا حق ہے اور ہم اس میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم نے جن 6 حلقوں کا معاملہ اٹھایا ہے اس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا ہے اور ان 6 حلقوں میں مزید کوئی کام کرنے سے روکا گیا ہے اور وہاں الیکشن کمیشن کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم اس کو تسلیم کریں گے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ ان تمام مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کریں گے اور اس کے بعد مزید بات چیت کے مراحل جاری رکھیں گے تاکہ ہم دونوں جماعتیں کسی ایک بہتر نتیجے پر پہنچ سکیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال پر حافظ نعیم نے کہا کہ الیکشن میں قانونی اور انتظامی امور سب شامل ہوتے ہیں اور الیکشن کمیشن کا اپنا ایک دائرہ کار ہے لیکن کمیشن کے پاس آر اوز اور ڈی آر اوز کی صورت میں عملہ حکومت فراہم کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب الیکشن کمیشن کے عملے کا مسئلہ ہوتا ہے تو ہم براہ راست ان سے بات کرتےہیں اور جہاں الیکشن کمیشن آر اوز اور ڈی آر اوز پر انحصار کرتا ہے تو ہم حکومت اور کمیشن دونوں سے بات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہا کہ الیکشن مکمل ہونے کے بعد تعلق آر اوز اور ڈی آر اوز سے ہے اواس میں الیکشن کمیشن اور حکومت سندھ کا کردار بنتا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کو اچھے طریقے سے حل ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر کے اندر کیوں ایسی فضا قائم ہو کہ کسی کو تسلیم نہ کرے، جو جیت گیا ہے، اس کو تسلیم کرنا چاہیے، ہم تمام تر تحفظات کے باوجود جس کا جو جینوئن مینڈیٹ ہے ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جماعت اسلامی بڑی جماعت بن کر ابھری ہے تو ضروری نہیں ہے کہ اس کے نمبر آگے پیچھے کر کے اس کی تعداد محدود کرنے کی کوشش کریں۔