اسلام آباد انتظامیہ، پولیس افغانستان سے آنے والے مسافروں کے بارے میں ’لاعلم‘

اسلام آباد انتظامیہ، پولیس افغانستان سے آنے والے مسافروں کے بارے میں ’لاعلم‘


ذرائع کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس تاحال ناواقف ہے کہ آئندہ چند دنوں میں افغانستان سے آنے والے بین الاقوامی ٹرانزٹ مسافروں کی متوقع ہے۔

دارالحکومت انتظامیہ اور پولیس کے افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان سے کہا گیا تھا کہ وہ بین الاقوامی ٹرانزٹ مسافروں کی رہائش اور حفاظت کے انتظامات کریں جو کہ کسی بھی وقت دارالحکومت پہنچنا شروع کردیں گے۔

26 اگست کے بعد سے کئی اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوئیں جن میں انتظامیہ اور پولیس کے افسران نے شرکت کی اس کے بعد انتظامیہ اور پولیس حکام کے درمیان اندرونی اجلاس بھی ہوئےہیں۔

اگرچہ دونوں محکموں کو ان مسافروں کے لیے انتظامات کرنے کے لیے کہا گیا ہے لیکن ابھی تک ان کے ساتھ تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں، حکام نے مزید کہا کہ پولیس سے کہا گیا کہ ان مسافروں کی حفاظت کے لیے زیادہ سے زیادہ افرادی قوت تعینات کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور دارالحکومت انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد انتظامات کریں کیونکہ ان (مسافروں) کی آمد کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔

افسران نے بتایا کہ جمعرات کو انہیں اسی طرح کی ہدایات جاری کی گئیں جب جمعہ کو 1500 مسافر اسلام آباد پہنچنے والے تھے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان کی آمد غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔

حکام نے مزید کہا کہ تفصیلات کی عدم موجودگی میں سیکیورٹی انتظامات کرنا مشکل ہیں، یہ مسئلہ متعلقہ حکام کے نوٹس میں بھی لایا گیا اور انہوں نے پولیس اور دارالحکومت انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ افرادی قوت اور وسائل کی کمی کی صورت میں مدد کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو زیادہ کمزور ہیں جیسے سیکیورٹی اہلکار، سفارت کار اور نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) ممالک کے باشندوں کو اضافی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

افسران نے بتایا کہ اس سلسلے میں نیٹو ممالک سے آنے والے مسافروں کے قیام کے لیے محفوظ ہوٹلوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل دارالحکومت انتظامیہ نے تمام ہوٹلز مالکان سے کہا تھا کہ وہ تمام خالی کمرے اگلے احکامات تک اپنے اختیار میں رکھیں۔

ضلعی مجسٹریٹ کے دفتر سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ سرحد کے پار موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہزاروں افراد اور مسافروں کی دارالحکومت آمد متوقع ہے۔

مسافروں کی سہولت کے لیے درخواست کی گئی ہے کہ اسلام آباد کے تمام ہوٹلز میں بکنگ 26 اگست سے کم از کم اگلے 21 دن کے لیے بند کی جا سکتی ہے۔

عہدیداروں نے مزید بتایا کہ کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں میں چھپے مشتبہ افراد کے بارے میں انٹیلی جنس اکٹھا کرنا جاری ہے اور نئے آباد کاروں کی شناخت کے لیے اسلام آباد میں رہنے والے افغانوں کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

2019 میں ہونے والے سروے کے مطابق مختلف علاقوں میں افغانیوں کی 5 بڑی بستیاں ہیں جن میں سبزی منڈی اور شہزاد ٹاؤن شامل ہیں۔

افغان خاندان بھارہ کہو، کراچی کمپنی، انڈسٹریل ایریا، رمنا، شمس کالونی اور سہالہ تھانے کے علاقوں میں بھی رہتے ہیں۔ جب رابطہ کیا گیا تو افسران نے اس معاملے پر سرکاری موقف دینے سے انکار کر دیا اور نام بھی ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔


اپنا تبصرہ لکھیں