اسلام آباد سے رپورٹ کرتے ہوئے، وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ، سینیٹر طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ سیاسی حکمت عملی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما ایک “غلط فہمی” میں مبتلا ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی نظر میں سیاسی لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
‘جیو نیوز’ کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ’ کے ساتھ ایک انٹرویو میں، طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ یہ درحقیقت پی ٹی آئی کے رہنما ہیں جو بانی سے ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملاقات کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے اور پی ٹی آئی خود کو سیاسی شہید کے طور پر پیش کرنے کی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔
ملکی سیاست کے تناظر میں، وفاقی وزیر نے ایک اہم انکشاف کیا کہ الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ اور ندیم چن کے ذریعے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کی پیشکش کی تھی۔
پارٹی کی اندرونی کشمکش کو اجاگر کرتے ہوئے، طلال چوہدری نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا لیکن اسے بانی کی جانب سے حکم ملا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ ان کے نزدیک، اس سے پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کی سیاسی وقعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے حکومتی موقف کو دہرایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی عمل کا حصہ بنے، لیکن بانیٔ پی ٹی آئی کی سوچ اس کے برعکس ہے، جس کا مقصد پاکستان میں سری لنکا یا بنگلا دیش جیسا سیاسی ماحول پیدا کرنا ہے۔ سینیٹر طلال چوہدری نے سخت الفاظ میں کہا کہ ایک سیاسی جماعت اگر جمہوری طریقے کے بجائے کسی اور راستے پر چلنے کی کوشش کرے گی تو حکومت اسے کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ بانی پی ٹی آئی اپنی جماعت کو سیاسی جماعت کے طور پر نہیں چلا رہے اور ان کی بقا اسی میں ہے جیسا کہ بانیٔ ایم کیو ایم کے ساتھ ہوا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کچھ اراکین مجبوری میں ان کے ساتھ ہیں اور بانی کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں، اور وقت آنے پر وہ خود ان سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔

