پشاور میں ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں نامعلوم افراد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر خرم ذیشان کے برادرِ نسبتی کی رہائش گاہ کو فائرنگ کا نشانہ بنایا ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فوری ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ وہ سینیٹر خرم ذیشان کی رہائش گاہ پہنچے تاکہ اس مشکل وقت میں ان کے اور ان کے خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی اور شیر علی ارباب بھی موجود تھے، جو پارٹی قیادت کی جانب سے اپنے ساتھی کے لیے حمایت کا واضح پیغام ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے سینیٹر خرم ذیشان کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے، وزیراعلیٰ نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ فی الفور متحرک ہوں اور ملزمان کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔

